برطانوی وزیراعظم کیر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ آئندہ اجلاس میں 35 ممالک کو اکٹھا کرے گا تاکہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور اس کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور اس اسٹریٹجک گزرگاہ کے بند ہونے سے تیل اور گیس کی سپلائی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ برطانوی حکومت کے مطابق اس کانفرنس میں مختلف ممالک کے رہنما اور سفارتی نمائندے شرکت کریں گے تاکہ بحری نقل و حرکت کی آزادی کو بحال کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس اجلاس میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، آسٹریلیا، جاپان، کینیڈا، جنوبی کوریا، نیوزی لینڈ، متحدہ عرب امارات اور نائجیریا سمیت متعدد ممالک شریک ہوں گے۔ اجلاس کا مقصد مشترکہ سفارتی اور سیاسی حکمتِ عملی طے کرنا ہے تاکہ پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالا جا سکے اور عالمی تجارت کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر بھی اس عمل میں شریک ہوں گی، جبکہ دفاعی اور عسکری حکام بعد ازاں عملی منصوبہ بندی پر غور کریں گے تاکہ تنازع ختم ہونے کے بعد اس آبی راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ کو اس مذاکراتی عمل میں براہِ راست مدعو نہیں کیا گیا، جس پر واشنگٹن میں تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے پر یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس نوعیت کے بحرانوں میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
تنازع کے تناظر میں ایران نے آبنائے ہرمز پر جزوی پابندی عائد کی ہے، جس کے باعث عالمی شپنگ متاثر ہوئی ہے۔ ایران کے مطابق اس اقدام کا مقصد اپنی سیکیورٹی اور خودمختاری کا تحفظ ہے، جبکہ مغربی ممالک اسے عالمی تجارت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی اور تجارت کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش یا رکاوٹ عالمی معیشت پر وسیع اثرات ڈال سکتی ہے۔ برطانیہ کی کوشش ہے کہ سفارتی، عسکری اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے ایک مربوط حل نکالا جائے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اجلاس اپنی نوعیت کا پہلا موقع ہوگا جس میں اتنے بڑے پیمانے پر ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے عملی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
