علی ظفر کی قانونی فتح: 8 سالہ ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد ردعمل سامنے آگیا

علی ظفر کی قانونی فتح: 8 سالہ ہتکِ عزت کیس جیتنے کے بعد ردعمل سامنے آگیا

پاکستانی میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار و اداکار Ali Zafar نے گلوکارہ Meesha Shafi کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنے کے بعد اپنے ردعمل میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔

45 سالہ فنکار نے 31 مارچ کو تقریباً 8 سال پر محیط طویل قانونی جنگ کے بعد اس ہائی پروفائل کیس میں کامیابی حاصل کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مشاہدہ کیا کہ میشا شفیع پیشیوں کے دوران عدالت میں حاضر نہیں ہوئیں اور نہ ہی اپنے الزامات کے حق میں مؤثر شواہد پیش کر سکیں، جبکہ علی ظفر نے اپنے گواہان عدالت میں پیش کیے۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق میشا شفیع کو علی ظفر کو 50 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ کیس پاکستان کے نمایاں ترین تنازعات میں سے ایک کے طور پر اپنے اختتام کو پہنچا۔

قانونی کامیابی کے دو روز بعد علی ظفر نے فوٹوز اور ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم Instagram پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس معاملے پر خاموشی توڑی۔ انہوں نے لکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور ان تمام افراد کے بھی جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا اور سچ کا ساتھ دیا۔

علی ظفر نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ وہ اس کامیابی کو جشن کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان کے دل میں عاجزی، انکساری اور شکرگزاری کے جذبات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کی فتح کا احساس نہیں بلکہ صرف یہ اطمینان ہے کہ بالآخر انصاف ہو گیا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی کے خلاف منفی جذبات نہیں رکھتے اور اس معاملے کو اپنے لیے بند باب سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق اب وقت ہے کہ سب لوگ وقار اور سکون کے ساتھ آگے بڑھیں۔

واضح رہے کہ Ali Zafar نے 2018 میں Meesha Shafi کی جانب سے عائد کیے گئے ہراسانی کے الزامات کے بعد ان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا، جو پاکستان میں می ٹو تحریک کے تناظر میں ایک اہم اور نمایاں کیس بن گیا تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے