واشنگٹن میں امریکی صدر Donald Trump کی قومی سلامتی ٹیم کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ہے، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور سکیورٹی خدشات پر غور کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اجلاس وائٹ ہاؤس میں اس وقت طلب کیا گیا جب بعض میڈیا ذرائع نے ایران سے منسوب ایسے واقعات کی اطلاع دی جن میں امریکی طیاروں کو نشانہ بنائے جانے کے دعوے سامنے آئے۔
اجلاس میں اعلیٰ فوجی حکام اور انٹیلی جنس اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ صدر ٹرمپ کو صورتحال پر مسلسل بریفنگ دی جاتی رہی۔ حکام کے مطابق اجلاس کا مقصد زمینی صورتحال کا جائزہ لینا اور ممکنہ سکیورٹی و دفاعی اقدامات پر غور کرنا تھا۔
امریکی میڈیا ادارے ABC News کے مطابق یہ پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم مرحلہ سمجھی جا رہی ہے، اور اس سے خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے دن کا بیشتر حصہ سکیورٹی بریفنگز میں گزارا اور سینئر فوجی و انٹیلی جنس قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے، تاکہ آئندہ کی حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی ادارے الرٹ ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز زیرِ غور ہیں۔
