سعودی عرب نے خلائی میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ’شمس‘ نامی سیٹلائٹ کو Artemis II مشن کے تحت کامیابی سے خلا میں بھیج دیا ہے، جس کے ساتھ مملکت اس پروگرام میں حصہ لینے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔
یہ لانچ NASA کے اشتراک سے کیا گیا، جہاں سیٹلائٹ کو طاقتور Space Launch System (SLS) راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا۔
’شمس‘ سیٹلائٹ کا مقصد کیا ہے؟
’شمس‘ سیٹلائٹ بنیادی طور پر خلائی موسم (Space Weather) کا مطالعہ کرے گا، جس میں شامل ہیں:
- شمسی تابکاری (Solar Radiation)
- شمسی ایکسرے (Solar X-rays)
- زمین کا مقناطیسی میدان
- زیادہ توانائی والے شمسی ذرات
یہ سیٹلائٹ زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے 70,000 کلومیٹر کے درمیان ایک بلند بیضوی مدار میں گردش کرے گا، جو اسے وسیع سائنسی مشاہدہ فراہم کرے گا۔
کیوں اہم ہے یہ مشن؟
یہ مشن کئی حوالوں سے تاریخی قرار دیا جا رہا ہے:
- پہلا عرب خلائی مشن جو آرٹیمس پروگرام کا حصہ بنا
- خلائی موسم کی نگرانی کے لیے سعودی عرب کا پہلا خصوصی سیٹلائٹ
- جدید خلائی ٹیکنالوجی میں مقامی صلاحیتوں کی ترقی کا مظہر
یہ اقدام Saudi Vision 2030 کے تحت سائنسی اور تکنیکی خود انحصاری کی طرف اہم پیش رفت ہے۔
آرٹیمس پروگرام کیا ہے؟
Artemis II ناسا کا دوسرا بڑا مشن ہے جس کا مقصد:
- انسان کو دوبارہ چاند کے مدار میں بھیجنا
- مستقبل میں مریخ مشنز کی تیاری کرنا
- بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینا
اس مشن میں خلا باز اورین (Orion) خلائی گاڑی کے ذریعے چاند کے گرد چکر لگائیں گے۔
اس کامیابی کے اثرات
ماہرین کے مطابق ’شمس‘ سیٹلائٹ:
- مواصلات، نیویگیشن اور ہوابازی کے نظام کو بہتر بنائے گا
- شمسی طوفانوں کے اثرات کی پیشگی وارننگ دے سکے گا
- خلائی تحقیق میں سعودی عرب کی عالمی حیثیت مضبوط کرے گا
