اسرائیلی وزیراعظم نے چیف آف اسٹاف کو عہدے سے ہٹا دیا

اسرائیل میں نسل پرستانہ ریمارکس کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی دباؤ کے نتیجے میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے چیف آف اسٹاف زیو اگمون کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق زیو اگمون اپنے متنازع بیانات کے باعث نہ صرف حکومتی اتحاد بلکہ اپوزیشن کی بھی شدید تنقید کی زد میں آ گئے تھے۔ انہوں نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے ارکان نِسیم وتوری اور ایلی ریوِیوو کے بارے میں توہین آمیز اور نسل پرستانہ زبان استعمال کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اگمون نے نِسیم وتوری کو "بابون” جبکہ ایلی ریوِیوو کو "ذہنی معذور مراکشی” قرار دیا تھا، جس پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ ایسے افراد پارلیمنٹ تک کیسے پہنچ جاتے ہیں۔

ان بیانات کے بعد اسرائیلی سیاست میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا، جہاں مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اس طرزِ گفتگو کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر وزیرِ اعظم نے بالآخر اپنے چیف آف اسٹاف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے