ٹرمپ کی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردعمل، نائب صدر اور اسپیکر نے شدید الفاظ میں خبردار کر دیا

ایران کا 2026 فیفا ورلڈ کپ میزبانوں سے وعدوں کی پاسداری پر زور

امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے دی جانے والی مبینہ دھمکیوں پر ایران کی اعلیٰ قیادت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی پالیسی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

ایران کے نائب صدر Mohammad Reza Aref نے ایک بیان میں کہا کہ دوسروں کو دھمکانے والا خود “پتھر کے زمانے” کی سوچ کا حامل ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ ایران کے پاور پلانٹس اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، تاہم ایران نے تمام تر دباؤ کے باوجود تعمیر و ترقی اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت یا جنگی اقدامات کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹایا جا سکتا، اور نہ ہی جنگی جرائم کے ذریعے کوئی فریق اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر Mohammad Bagher Ghalibaf نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر کو “خطرناک کھیل” ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ خود امریکا کے عوام کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔

باقر قالیباف نے الزام عائد کیا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کی پالیسیوں اور اثر و رسوخ کے باعث ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں پورا خطہ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تنازع کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایران کے حقوق کا احترام کیا جائے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کی جائیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے