امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے 45 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پر سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق علاقائی ثالثوں کی مدد سے جاری مذاکرات کا مقصد فوری طور پر لڑائی کو روک کر ایک مستقل معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریقین کے درمیان تناؤ اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور آنے والے 48 گھنٹوں کو انتہائی اہم اور فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تجویز کے تحت جنگ بندی کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کے پہلے مرحلے میں 45 روزہ عارضی سیز فائر ہوگا جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور مستقل معاہدے پر بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں پاکستان، مصر اور ترکی کی جانب سے بھی ثالثی کی جا رہی ہے، جبکہ کچھ غیر علانیہ براہ راست رابطے بھی جاری ہیں۔ اسی دوران امریکا نے ایران کو مختلف تجاویز پیش کی ہیں، تاہم تہران کی جانب سے اب تک کسی حتمی منظوری کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
ثالثین کی کوشش ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت اہم معاملات پر پیش رفت ہو، جن میں Strait of Hormuz کی صورتحال اور یورینیم افزودگی جیسے حساس امور شامل ہیں۔ تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی عارضی جنگ بندی کے بدلے میں بنیادی نوعیت کی مکمل رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔
ادھر امریکی صدر Donald Trump نے بھی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو سخت اقدامات کا امکان موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے دوران اس بات کی ضمانت لینے کی کوشش بھی جاری ہے کہ لڑائی دوبارہ شروع نہ ہو، جبکہ ایران کو خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح کوئی عارضی معاہدہ دوبارہ ٹوٹ سکتا ہے۔ اسی لیے تہران مضبوط اور قابلِ اعتماد ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔
