بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) میں جاری انتظامی بحران مزید گہرا ہوگیا ہے، جب مزید تین ڈائریکٹرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد گزشتہ چھ ماہ کے دوران مستعفی ہونے والے ڈائریکٹرز کی مجموعی تعداد چھ تک پہنچ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق شانیان تنیم، فیض الرحمان اور محراب عالم چوہدری نے ہفتے کے روز طویل بورڈ اجلاس کے بعد اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا۔ ذرائع کے مطابق ان استعفوں کی وجوہات باضابطہ طور پر واضح نہیں کی گئیں اور انہیں ذاتی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بھی یاسر محمد فیصل، اشتیاق صدیق اور امجد حسین مختلف وجوہات کے باعث بورڈ سے مستعفی ہو چکے ہیں، جس سے ادارے میں اندرونی اختلافات اور عدم استحکام کی صورتحال نمایاں ہو رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بی سی بی صدر امین الاسلام بلبل کی قیادت میں بورڈ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اکتوبر 2025 کے انتخابات کے بعد سے پیدا ہونے والے تنازعات، مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات، اور حکومتی مداخلت کے الزامات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ وزارتِ کھیل کی جانب سے بھی انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ حکومت کو پیش کی جا چکی ہے۔
دوسری جانب بی سی بی کے صدر امین الاسلام بلبل نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس صورتحال میں کرسی چھوڑنے والے آخری شخص ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا کردار صرف اضلاع سے کونسلرز کے نام طلب کرنے تک محدود تھا اور انہوں نے تحقیقاتی کمیٹی کو اپنا تحریری جواب بھی جمع کرا دیا ہے۔
ادھر سابق کپتان تمیم اقبال نے بھی انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے صدارتی دوڑ سے دستبرداری اختیار کرلی تھی، جس نے اس بحران کو مزید نمایاں کر دیا۔
