ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے انٹیلی جنس سربراہ میجر جنرل مجید خادمی ایک مبینہ امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق ایرانی میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک کارروائی کے دوران پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے بیان میں میجر جنرل مجید خادمی کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور کے انٹیلی جنس نظام میں ایک اہم اور طویل عرصے تک کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ خادمی گزشتہ تقریباً پانچ دہائیوں سے ایران کے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ڈھانچے کا حصہ تھے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر جنرل مجید خادمی کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے حوالے سے انتظامات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے حوالے سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے امریکا اور اسرائیل کو کبھی گزرنے نہیں دیا جائے گا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال حساس بنی ہوئی ہے۔
