دبئی اور عمان میں کروڈ آئل 170 ڈالر فی بیرل ہے، قیمتیں مجبوراً عوام پر متنقل کرنا پڑیں: علی پرویز ملک

اسپیکرایازصادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس دوران وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطےکی صورتحال نے سب کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے رکھا ہے،حکومت نے ذمہ داری نبھائی یا نہیں یہ فیصلہ تاریخ کرے گی، 28 فروری کو ایران میں بمباری کے باعث ہرمز سے تیل کی چین متاثر ہوئی۔

علی پرویز ملک کا کہناتھا کہ 20سے 25 فیصدآبنائے ہرمز سے سپلائی متاثر ہوئی،رکاوٹ کے باعث دنیا میں نرخوں میں اضافہ ہوا،حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا،کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کر کے وفاقی حکومت نے اقدامات کئے، 50, ،60 ارب کےجھٹکےحکومت نے خود برداشت کئے، اندرونی بحران سے بچانے اور استحکام یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت اور دستیابی میں بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ڈیزل کی قیمت 90 سے 280 ڈالر کو چھو چکی تھی،ڈیزل منگوانے کیلئے کویت پٹرولیم کی ساتھ50 سال کا معاہدہ ہے،وزیراعظم ، فیلڈ مارشل، ڈپٹی وزیراعظم نے بھرپور کردار ادا کیا،عالمی منڈی میں قلت کے باعث مشکلات اور مہنگائی لقب سامنا کرنا پڑا،ساری ایل این جی قطر سے آتی ہے،گیس لانے کے متبادل بندوبست کئے گئے۔

انہو ں نے کہا کہ صدر مملکت نے قومی قیادت کو مدعو کیا، صورتحال سامنے رکھی، دبئی اور عمان میں کروڈ آئل 170 ڈالر فی بیرل ہے ،  ایل این جی کی سپلائی بند ہو گئی متبادل موجود نہیں تھا ، تیل کی بڑھتی قیمتیں مجبورا عوام پر متنقل کرنا پڑیں،  چند ہفتوں میں 144  ارب کا بندوبست کر کے ریلیف دیا گیا،وزرا  کو صوبوں میں بھیجا گیا سب کو ایک پیج پر لایا گیا، وزیراعظم نے بھی اقدامات قومی قیادت کے سامنے رکھے ۔

علی پرویزملک کا کہناتھا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے سے کمزور طبقے کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا،صدر، وزیراعظم،وزرائےاعلیٰ، آزاد کشمیر،گلگت بلتستان حکومتوں کا شکریہ ،اتفاق رائے سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا بندوبست کیا گیا،ڈیجیٹل ذرائع سے رقوم کی منتقلی کی جا رہی ہے ٹرانزیکشن جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا 90 فیصد تیل آبنائے ہرمز سے آتا ہے،سعودی حکومت نے اپنی پورٹ کے ذریعے تیل مہیا کیا،یو اے ای،عمان حکومتوں کا بھی شکریہ جنہوں نے تیل ترسیل کا ماحول فراہم کیا، قطر سے گیس کی فراہمی میں تعطل ہے، کھاد کے بحران سے بچنے کیلئے وزیراعظم نے ہدایت دی ہے ، کھاد کی قیمت ساڑھے چار ہزار سے زائد نہ ہونےکی ہدایت کی ہے ، جنگ بندی میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا ایرانی حکومت نے بھی تعاون کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے