ایران میں مبینہ طور پر اہم پلوں اور بجلی پیدا کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے بعد عوام بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئے اور مختلف شہروں میں احتجاجی اور علامتی مظاہرے کیے۔ شہریوں نے ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے خود کو منظم کرتے ہوئے متعلقہ مقامات پر جمع ہو کر انسانی زنجیریں تشکیل دیں۔
مظاہرین نے قومی پرچم تھام کر اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور ان مقامات پر موجود رہ کر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے یا دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ ان دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن حد تک جانے کو تیار ہیں۔
مقامی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان مظاہروں میں معاشرے کے مختلف طبقات نے حصہ لیا جن میں بچے، نوجوان، بزرگ، طلبہ و طالبات اور خواتین شامل تھیں، جس سے اس احتجاج کو ایک وسیع عوامی حمایت حاصل ہونے کا تاثر ملا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق عوامی سطح پر اس نوعیت کے اجتماعات نہ صرف اندرونی یکجہتی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ موجودہ صورتحال میں قومی جذبات اور سیکیورٹی خدشات کی شدت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

