روس اور چین کا ویٹو، آبنائے ہرمز کھلوانے کی قرارداد اقوام متحدہ میں منظور نہ ہو سکی

اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، کشیدگی پر شدید ردِعمل

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کو کھلوانے سے متعلق پیش کی گئی قرارداد روس اور چین کے ویٹو کے باعث منظور نہ ہو سکی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد پر سلامتی کونسل میں ووٹنگ ہوئی، جس میں 11 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 2 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم Russia اور China نے مسودے کی مخالفت کرتے ہوئے ویٹو پاور استعمال کی، جس کے نتیجے میں قرارداد منظور نہ ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق اس مسودے میں رکن ممالک کو آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی اجازت دینے کی تجویز شامل تھی، تاہم فرانس سمیت بعض دیگر اراکین نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا۔ سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل اراکین کے درمیان بھی اس معاملے پر اتفاق رائے موجود نہیں تھا، جس نے ووٹنگ کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

یاد رہے کہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ 28 فروری کے بعد سے جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں صورتحال مزید حساس ہو گئی۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ تصور کی جاتی ہے، اور اس کی بندش یا اس پر کشیدگی عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے