ایران جنگ بندی پر اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کی نیتن یاہو پر سخت تنقید، سفارتی ناکامی قرار

Yair Lapid

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل میں سیاسی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں حزب اختلاف کے رہنما Yair Lapid نے حکومت کی خارجہ پالیسی اور سفارتی کردار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں یائر لاپڈ نے کہا کہ اسرائیل کی تاریخ میں اس نوعیت کی “سفارتی ناکامی” پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ان کے مطابق اس اہم مرحلے پر اسرائیل کو فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھا گیا، جو قومی سلامتی کے بنیادی معاملات کے حوالے سے ایک سنجیدہ تشویش ہے۔

لاپڈ نے مزید کہا کہ اگرچہ اسرائیلی فوج نے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دیں اور عوام نے نمایاں لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم وزیر اعظم Benjamin Netanyahu سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے بقول حکومت نہ تو اپنے طے کردہ اہداف حاصل کر سکی اور نہ ہی بحران کے دوران مؤثر سفارتی حکمت عملی اپنائی گئی۔

اپوزیشن رہنما نے الزام عائد کیا کہ موجودہ قیادت کی جانب سے مبینہ طور پر تکبر، غفلت اور جامع منصوبہ بندی کے فقدان نے اسرائیل کو ایک ایسے سفارتی نقصان سے دوچار کیا ہے جس کے اثرات کو درست کرنے میں طویل وقت درکار ہوگا۔

ایران جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل کے اندر یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ آیا حکومت نے اس پورے بحران میں اپنی سفارتی پوزیشن کو مؤثر انداز میں استعمال کیا یا نہیں، اور آیا آئندہ کے لیے خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے