امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں بڑا ردعمل سامنے آیا ہے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ کھلتے ہی ہنڈریڈ انڈیکس میں 12 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ ایک ساتھ 14 حدیں بحال ہوگئیں۔ ہنڈریڈ انڈیکس ایک لاکھ 51 ہزار سے سیدھا ایک لاکھ 64 ہزار پر پہنچ گیا۔ غیر معمولی تیزی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ ایک گھنٹےکیلئے روک دی گئی ہے۔
عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92.30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 16.5 فیصد کمی کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر گیا۔
ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
