ایران نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دی، امریکہ ناقابل اعتبار ہے، قونصل جنرل مہران موحد فر

Iran has always prioritized peace, negotiations and diplomacy, America is unreliable, Iranian Consul General Mehran Movah Far

رپورٹ (سید فرزند علی)

لاہور میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل مہران موحد فر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے امن، مذاکرات اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا آیا ہے۔ اب جنگ بندی معاہدے کے تحت 10 اپریل سے اسلام آباد میں پھر مذاکرات شروع جارہے ہیں

سینئر صحافیوں کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی کوششوں سے خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے میں مدد ملی۔

قونصل جنرل سے ملاقات کرنے والوں سینئر صحافیوں میں نذیر بھٹی، سید فرزند علی، عدنان شیخ، عمر دراز، حمزہ خورشید، آصف محمود، تجمل بخاری، رانا کامران، میاں شعیب، شفیق شریف، زاہد عباس، انصار زاہد، میاں اعجاز، اعظم ملک، کاشف سلیمان، عدیل مصطفی اور ام فروہ شامل تھے۔

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ایران پر جنگ مسلط کی گئی، تاہم اس کے باوجود تہران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن نہیں، لیکن اس کے جوہری ہتھیاروں کا کوئی احتساب نہیں کیا جاتا، جبکہ ایران پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جوہری معاہدہ (برجام) ختم ہونے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا، جبکہ عمان کی ثالثی میں جاری مذاکرات بھی متاثر ہوئے۔

مہران موحد فر نے اس امید کا اظہار کیا کہ دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کامیاب مذاکرات کے بعد مستقل امن میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور تمام تنازعات کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا چاہتا ہے۔ لیکن امریکہ ناقابل اعتبار ملک ہے۔

ملاقات کے دوران ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی، جوہری پروگرام اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ صحافیوں کے وفد نے ایرانی رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یاد میں فاتحہ خوانی بھی کی۔

قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان کی عوام اور حکومت نے مشکل وقت میں ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جس پر وہ تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے