White House کی ترجمان Karoline Leavitt نے اعلان کیا ہے کہ Iran اور United States کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کے روز Islamabad میں ہوگا۔
ترجمان کے مطابق امریکی وفد کی قیادت نائب صدر JD Vance کریں گے، جبکہ خصوصی ایلچی Steve Witkoff اور Jared Kushner بھی وفد کا حصہ ہوں گے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے متعلق سفارتی پیش رفت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ جنگ بندی بھی ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 10 نکاتی منصوبے کی بنیاد پر ممکن ہوئی۔
ترجمان نے دعویٰ کیا کہ امریکی آپریشن “ایپک فیوری” کے دوران ایران کی فضائیہ، بحریہ اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جبکہ جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی برسوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران 13 امریکی فوجی ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، تاہم موجودہ جنگ بندی کو امریکا کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق Donald Trump کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ان کی “ریڈ لائنز” برقرار ہیں، جبکہ ایران نے Strait of Hormuz کو کھولنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنان اس جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جبکہ مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں سمیت اہم معاملات زیر غور آئیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ مستقل معاہدے کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
