Masoud Pezeshkian نے Lebanon میں Israel کے حملوں کو جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف دھوکا دہی کی عکاس ہیں بلکہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں سے وابستگی کی کمی کی ایک خطرناک علامت بھی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان پر جاری حملے جنگ بندی مذاکرات کو بے معنی بنا سکتے ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ Iran لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔
دریں اثنا Recep Tayyip Erdoğan اور Masoud Pezeshkian کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں خطے کی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر گفتگو کی گئی۔
ترک صدر نے اس موقع پر کہا کہ Pakistan میں جاری United States اور Iran کے مذاکرات کو دیرپا امن کے قیام کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکراتی عمل کو اس حد تک مؤثر بنایا جائے کہ خطے میں مستقل استحکام ممکن ہو سکے، جبکہ کسی بھی فریق کو اس عمل کو نقصان پہنچانے کا موقع نہ دیا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق لبنان کی صورتحال اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیاں خطے میں امن عمل کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہیں، جس کے لیے عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری ناگزیر ہوگی۔
