ایرانی پاسداران انقلاب نے جنگ بندی کے دوران حملوں کی تردید کی ہے جبکہ امریکی سینٹ کام نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
Islamic Revolutionary Guard Corps کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دوران ایرانی افواج نے کسی ملک پر کوئی حملہ نہیں کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی حملے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں تو یہ دراصل Israel کی سازش ہو سکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران کسی بھی کارروائی کی صورت میں اس کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
دوسری جانب United States Central Command کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی کے تحت ایران کے خلاف کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق حالیہ جنگ کے دوران ایران کی نیوی، بحری دفاعی نظام اور ڈرون صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا، اور ایران کو "تاریخی شکست” کا سامنا کرنا پڑا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایران میں تقریباً 13 ہزار فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوج بدستور موجود اور ہائی الرٹ ہے۔
سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کی مدد جاری رکھے گا تاکہ مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے متضاد دعوے خطے میں معلوماتی جنگ اور سفارتی کشیدگی کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں، جس سے صورتحال کی پیچیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
