امریکی جج نے قرار دیا ہے کہ پینٹاگون نے صحافیوں تک رسائی بحال کرنے کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ محکمہ دفاع نے فیصلے کے خلاف اپیل کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج Paul Friedman نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ دفاع کو پہلے سے جاری حکم کی مکمل تعمیل کرنی چاہیے تھی، جس کے تحت معتبر صحافیوں کی اسناد بحال کرنا لازمی تھا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ پینٹاگون "نئی کارروائی” کی آڑ میں پرانی پابندیوں کو دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو عدالت کے حکم سے انحراف کے مترادف ہے۔
جج کے مطابق صحافیوں تک رسائی محدود کرنے والی پالیسی آئینی تقاضوں اور صحافتی آزادی سے متعلق قانونی تحفظات کے خلاف جا سکتی ہے۔
دوسری جانب United States Department of Defense کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ادارے نے عدالتی حکم پر عمل کیا ہے اور تازہ فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اس مقدمے میں شامل میڈیا اداروں، بشمول The New York Times نے مؤقف اپنایا ہے کہ پینٹاگون کی نئی پالیسی عدالتی حکم کی "روح اور متن” دونوں کی خلاف ورزی کرتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کیس امریکی اداروں اور پریس آزادی کے درمیان جاری کشمکش کی ایک اہم مثال ہے، جس کے مستقبل میں دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
