اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں آج امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات ہو رہے ہیں، جس میں پاکستان کی ثالثی میں فریقین کے وفود پیچیدہ اور حساس معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
پاکستان کی طویل اور کامیاب سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ہونے والی یہ بات چیت عارضی جنگ بندی کو مستقل کرنے اور کسی وسیع تر معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی بڑی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کی بنیاد فریقین کی الگ الگ تجاویز پر رکھی گئی ہے، جن میں ایران نے 10 نکات پر مشتمل فریم ورک پیش کیا ہے جبکہ امریکا نے 15 نکاتی منصوبہ سامنے رکھا ہے۔
اگرچہ دونوں جانب سے بات چیت جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے، لیکن کئی اہم امور پر اختلافات اب بھی واضح ہیں، جن میں سب سے نمایاں ایران کا جوہری پروگرام ہے۔
امریکا اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کرے گا اور یورینیم افزودگی کو محدود رکھا جائے گا، ساتھ ہی عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی سخت نگرانی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
اس کے برعکس ایران اپنے پرامن جوہری پروگرام کے حق کو تسلیم کروانے پر زور دے رہا ہے اور یورینیم افزودگی کو اپنی خودمختاری کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اسی طرح اقتصادی پابندیاں بھی اسلام آباد مذاکرات کا ایک اہم نکتہ ہیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد عالمی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں اور بیرون ملک موجود اس کے مالی اثاثے واپس کیے جائیں۔
دوسری طرف امریکا پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کو ایران کی جانب سے عملی اقدامات اور وعدوں کی تکمیل سے مشروط کر رہا ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی ایران امریکا مذاکرات میں اہم موضوع کے طور پر شامل ہیں، جہاں تہران اس اہم بحری گزرگاہ پر اپنے کردار کو تسلیم کروانا چاہتا ہے جبکہ امریکا اسے عالمی تجارت کے لیے مکمل طور پر کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
اسی طرح مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ اور سیکیورٹی معاملات بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کا باعث ہیں۔
امریکا خطے میں بعض مسلح گروہوں کے لیے ایران کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی بات کر رہا ہے۔
ساتھ ہی ایران نے امریکی افواج کے انخلا اور عدم جارحیت کی ضمانت کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم امریکا نے اپنے سیکیورٹی مفادات کے پیش نظر اس پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔
اس کے علاوہ ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام بھی ایک حساس معاملہ ہے، جسپر امریکا ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ ایران اسے اپنے دفاعی حق میں مداخلت قرار دے رہا ہے۔
علاوہ ازیں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر 28 فروری سے شروع کیے گئے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ جیسے اہم معاملات بھی زیر غور ہیں۔
