ترجمان رینجرز کے مطابق دہشتگرد کے قبضے سے اسلحہ، ایمونیشن اور بارودی مواد برآمد کر لیا گیا، گرفتاردہشتگرد 2014 میں مفتی نور ولی گروہ میں شامل ہوا تھا جبکہ دہشتگرد جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں بھی ملوث رہا۔
انہون نے بتایا کہ ملزمان پر 2021 میں لیویز چیک پوسٹ مکین پر حملے میں ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے، حملے میں دہشتگرد کے دو ساتھی ہلاک جبکہ 6 اہلکار اغواء کیے گئے تھے، دہشتگرد آئی ای ڈیز نصب کرنے، دھماکوں میں بھی ملوث رہا علاوہ ازیں آپریشن کے بعد افغانستان فرار ہو گیا جس کے بعد دہشتگردی نیٹ ورک سے بھی منسلک رہا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم کمانڈر بلال عرف طوفان کی ہدایات پر دہشتگردی سرگرمیوں میں شامل رہا، دہشتگرد کراچی میں روپوش ہو کر نیٹ ورک منظم کر رہا تھا تاہم ملزم کے ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار دہشتگرد سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔
