امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کے بیان پر ایران نے سخت اور طنزیہ ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی معیشت پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر نام نہاد ناکہ بندی کی گئی تو دنیا جلد ہی 4 سے 5 ڈالر فی گیلن پیٹرول کے دنوں کو یاد کرے گی، جو توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی طرف واضح اشارہ ہے۔
انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عزم کو دوبارہ آزمانے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی اسپیکر نے واضح کیا کہ امریکی دھمکیاں ایرانی عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق اگر امریکا جنگ کا راستہ اختیار کرے گا تو ایران بھی بھرپور جواب دے گا، تاہم اگر بات چیت اور منطق کی بنیاد پر آگے بڑھا جائے تو ایران بھی اسی انداز میں ردعمل دے گا۔
ادھر ایرانی وفد نے مذاکراتی عمل کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران نے نیک نیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متعدد مثبت اقدامات کیے ہیں، جن کے نتیجے میں بات چیت میں پیش رفت ممکن ہوئی۔ تاہم موجودہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور کسی بھی وقت صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔
