آسیان کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے مستقل حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر غور کے لیے آسیان وزرائے خارجہ کا ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے عالمی اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزرائے خارجہ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں اور طیاروں کی محفوظ، بلا رکاوٹ اور مسلسل آمد و رفت کی بحالی پر زور دیا، جسے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور سفارتی ذرائع کے ذریعے تنازع کے مستقل حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات جاری رکھیں۔
ماہرین کے مطابق آسیان ممالک کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، جس کے باعث عالمی برادری سفارتی حل پر زور دے رہی ہے۔
