نیٹو کے کئی اتحادی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق مبینہ ناکہ بندی منصوبے میں براہِ راست شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی اتحادیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت کسی بھی فوجی ناکہ بندی یا براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے، بلکہ ان کی ترجیح صرف جنگ کے خاتمے کے بعد بحری سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرے گی جس سے خطہ براہِ راست جنگ میں داخل ہو، اور ترجیح صرف سمندری راستوں کی حفاظت اور نیویگیشن کی آزادی ہے۔
اسی طرح فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس برطانیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک کثیر القومی دفاعی مشن پر کام کر رہا ہے، جو صرف امن قائم ہونے کے بعد تعینات کیا جائے گا اور اس کا مقصد تجارتی جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہوگا۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے مطابق اتحاد کے رکن ممالک سے اس حوالے سے مشاورت جاری ہے، اور ممکن ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز میں مشترکہ مشن تشکیل دیا جائے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 30 ممالک پر مشتمل ایک ممکنہ بحری مشن پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم یورپی سفارتکاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ موجودہ امریکی پالیسی کے بعد اس مشن کی نوعیت اور حمایت میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
