چین جمعہ کے روز روس اور ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی جوہری مذاکرات کی میزبانی کرے گا، جس میں ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر گفتگو کی جائے گی۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایران کے جوہری سرگرمیوں پر علیحدہ اجلاس منعقد کر رہی ہے۔
چین کے نائب وزیر خارجہ ما ژاؤشو (Ma Zhaoxu) ان مذاکرات کی سربراہی کریں گے، جبکہ روس اور ایران کی جانب سے نائب وزرائے خارجہ شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس روس اور ایران کے اسٹریٹجک تعلقات میں اضافے کا مظہر ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران نے اپنی یورینیم افزودگی 60 فیصد تک بڑھا دی ہے، جو کہ ہتھیاروں کے درجے کی سطح 90 فیصد کے قریب ہے۔ اس پیشرفت پر عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے ایران کے جوہری پروگرام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی پیش رفت پر انتباہ جاری کیا ہے۔
یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب روس اور ایران نے یوکرین جنگ کے بعد اپنے تعلقات مزید مستحکم کر لیے ہیں اور جنوری میں ایک اسٹریٹجک معاہدے کو رسمی شکل دی گئی ہے۔ دوسری جانب، چین ایران کے جوہری حقوق کی حمایت کے ساتھ ساتھ 2015 کے مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) کی بحالی کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ JCPOA معاہدہ ایران، امریکہ، چین، روس، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان طے پایا تھا، لیکن 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد سے ایران نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم افزودگی میں اضافہ کیا، جس کے باعث بین الاقوامی دباؤ میں شدت آئی ہے۔
چین کی جانب سے ان مذاکرات کی میزبانی سفارتی سطح پر اس کی فعال پالیسی کا عکاس ہے۔ بیجنگ جوہری تنازعے میں ایک متوازن سفارتی حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہے اور خطے میں استحکام کے لیے مذاکرات پر زور دے رہا ہے۔
دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور عالمی جوہری سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
