سیئول — جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے صدارتی دفتر کو دوبارہ ملک کے روایتی بلیو ہاؤس (چیونگ وا ڈے) کمپاؤنڈ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام وزارتِ دفاع کے احاطے سے واپسی کی صورت میں سامنے آیا ہے جہاں معزول سابق صدر یون سک یول نے اپنا دفتر قائم کیا تھا۔
صدر لی کے دفتر کے مطابق صدارتی دفتر کی منتقلی کرسمس کے قریب متوقع ہے۔ تاہم صدارتی رہائش گاہ بیک وقت منتقل نہیں کی جا رہی کیونکہ بلیو ہاؤس کے بعض حصوں کا تکنیکی اور حفاظتی معائنہ جاری ہے، جو گزشتہ حکومت کے دوران ہونے والے نقصانات کے باعث ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ صدارتی رہائش کی منتقلی سے متعلق تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
جون میں ہونے والے سنیپ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے لی جے میونگ نے انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ مستقبل میں صدارتی دفتر کو دارالحکومت سیئول سے جنوب میں واقع سیجونگ شہر منتقل کیا جائے گا، جہاں کئی اہم سرکاری وزارتیں پہلے ہی موجود ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد دارالحکومت سے باہر علاقوں کی معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
صدارتی دفتر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وزارتِ دفاع کے اس کمپاؤنڈ کا مستقبل میں کیا استعمال ہوگا جہاں سے اب صدر لی منتقل ہو رہے ہیں۔
یون سک یول کی روایت شکنی
واضح رہے کہ سابق صدر یون سک یول کو اپریل میں مختصر طور پر مارشل لا نافذ کرنے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ انہوں نے 2022 میں اقتدار سنبھالتے ہی کئی دہائیوں پرانی روایت توڑتے ہوئے صدارتی دفتر اور رہائش گاہ کو بلیو ہاؤس سے منتقل کر کے وسطی سیئول میں وزارت دفاع کی سابق عمارتوں میں قائم کیا تھا۔
یون سک یول کے اس فیصلے پر تقریباً 40 ملین ڈالر خرچ ہوئے اور اسے سکیورٹی خدشات اور انتظامی بنیادوں پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ اس اقدام نے ملک میں فینگ شوئی کے ماہرین اور سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھیڑ دی، جب بعض ناقدین نے الزام عائد کیا کہ یون سک یول نے بلیو ہاؤس کے مقام کو "بدشگون” قرار دینے والوں کے مشورے پر یہ فیصلہ کیا۔
بلیو ہاؤس عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا
یون سک یول کے دفتر سے نکلنے کے بعد بلیو ہاؤس کو عوام کے لیے کھول دیا گیا تھا، جسے جون کے وسط تک 80 لاکھ سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں۔
بلیو ہاؤس، جسے کوریائی زبان میں چیونگ وا ڈے کہا جاتا ہے، اپنی مرکزی عمارت پر نصب نیلی ٹائلوں کے باعث مشہور ہے اور یہ بگاکسن پہاڑ کے دامن میں ایک دلکش مقام پر واقع ہے۔
