وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اہلیہ پر نیویارک میں فردِ جرم عائد، امریکی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا

Venezuelan President Nicolas Maduro and his wife indicted in New York, to be tried in US courts

واشنگٹن / کاراکاس – امریکی اٹارنی جنرل پام بونڈی نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کے خلاف نیویارک میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے اور انہیں جلد امریکی عدالتوں میں پیش کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے وینزویلا میں صدر مادورو کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی ایک منظم اور ہدفی آپریشن کے تحت کی گئی۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی فوج کے خصوصی دستے ڈیلٹا فورس نے گرفتار کیا، جس کے بعد انہیں ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا۔ ایک امریکی سینیٹر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مادورو اس وقت امریکی تحویل میں ہیں۔

امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق صدر مادورو اور ان کی اہلیہ پر منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گرد تنظیموں کی معاونت، اور امریکا کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے حصول کی سازش جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کے تحت دونوں شخصیات کو امریکی قوانین کے مطابق سخت عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پام بونڈی نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت نے اس سے قبل 7 اگست 2025 کو نکولس مادورو کی گرفتاری پر 50 ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا، جو امریکا کی جانب سے کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت پر مقرر کیے گئے بڑے انعامات میں سے ایک تھا۔

اس غیر معمولی پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل اور قانونی و سفارتی سوالات جنم لینے کا امکان ہے، خصوصاً کسی برسرِ اقتدار صدر کی براہِ راست فوجی کارروائی میں گرفتاری کے تناظر میں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام لاطینی امریکا، امریکا-وینزویلا تعلقات اور بین الاقوامی قانون پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے