آزاد کشمیر کی سیاست میں عوامی ایکشن کمیٹی کا قیام ایک سادہ مگر طاقتور خیال کے ساتھ ہوا تھا۔ انجمن تاجران کے نمائندوں نے روزمرہ کے عوامی مسائل کو بنیاد بنا کر ایک ایسی تحریک شروع کی جو نہ جماعتی تھی اور نہ نظریاتی۔ بجلی کے نرخ، ٹیکسوں کا بوجھ، مہنگائی اور بنیادی سہولیات جیسے معاملات اس کا محور تھے۔ اسی لیے اسے تاجر برادری سے نکل کر عام شہریوں تک پذیرائی ملی اور چند نمایاں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں۔
مگر سیاست میں خلا زیادہ دیر خالی نہیں رہتا۔ جیسے جیسے تحریک مقبول ہوئی، اس میں مختلف سیاسی اور نظریاتی عناصر کی شمولیت بڑھتی گئی۔ تحریک انصاف سے وابستہ کارکنوں اور قوم پرست حلقوں کی موجودگی نے آہستہ آہستہ اس کے بیانیے کو بدلنا شروع کیا۔ وہ تحریک جو خالص عوامی مسائل پر کھڑی تھی، اس میں ریاستی ڈھانچے، افواج پاکستان اور بعض سماجی طبقات کے خلاف سخت مؤقف نمایاں ہونے لگا۔ انجمن تاجران، جو اس تحریک کا ابتدائی چہرہ تھے، پس منظر میں چلے گئے اور قیادت کا بیانیہ بدلتا گیا۔
یہاں سوال نیت کا نہیں، سمت کا ہے۔ جب کسی تحریک کا محور عوامی مسائل سے ہٹ کر ریاستی بیانیے کی نفی کی طرف چلا جائے تو اس کے اثرات صرف مقامی نہیں رہتے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی اطلاعاتی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ دفاعی ماہرین برسوں سے “ہائبرڈ وار” یا “ففتھ جنریشن وار” کا ذکر کرتے آئے ہیں، جس میں بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بیانیہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی عوامی تحریک کے اندر وہی نکات گونجنے لگیں جو بھارت کے بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف اٹھائے جاتے ہیں تو تشویش فطری ہے۔
نوجوان نسل اس ساری کشمکش کا سب سے حساس پہلو ہے۔ سوشل میڈیا نے سیاسی شعور کو تیز کیا ہے، مگر اس کے ساتھ جذباتی اور یکطرفہ بیانیے بھی تیزی سے پھیلتے ہیں۔ بنیادی محرومیوں کا احساس ایک حقیقت ہے، مگر جب اسی احساس کو نفرت، تعصب اور گالی گلوچ میں ڈھال دیا جائے تو نتیجہ تقسیم کی صورت میں نکلتا ہے۔ بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں مقامی شکایات کو بیرونی ایجنڈوں نے استعمال کیا۔ ریاستی بیانات اور عدالتی ریکارڈ میں کلبھوشن یادیو کیس اس پہلو کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حالیہ بیانات میں بعض رہنماؤں کی جانب سے مہارنگ بلوچ اور منظور پشتین جیسے ناموں کا حوالہ دینا اور اسلام آباد کے احتجاجی مظاہروں میں شرکت اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ مختلف علاقائی تحریکوں کے درمیان ایک فکری ربط قائم کیا جا رہا ہے۔ حامی اسے مشترکہ حقوق کی جدوجہد کہتے ہیں، ناقدین اسے ریاستی ڈھانچے کے خلاف بیانیاتی صف بندی قرار دیتے ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر حقیقت یہ ہے کہ آزاد کشمیر جیسے حساس خطے میں ہر لفظ کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔
تاریخ بھی اس بحث کا حصہ ہے۔ 1947 میں برصغیر کی 562 ریاستوں کو الحاق کا اختیار دیا گیا۔ کشمیر اور جونا گڑھ کے معاملات متنازع بنے اور اقوام متحدہ تک پہنچے۔ بعد کے برسوں میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان 1975 کا معاہدہ ایک اہم موڑ تھا۔ کچھ اسے سیاسی حقیقت پسندی کہتے ہیں، کچھ نظریاتی پسپائی۔ آج جب خود مختاری یا علیحدگی جیسے نعرے دوبارہ ابھرتے ہیں تو ماضی کی وہی مثالیں حوالہ بنتی ہیں۔
بیرون ملک مقیم بعض کارکنان کی جانب سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر تنقید بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ انسانی حقوق کی بحث اصولی ہونی چاہیے اور ہر خطے کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس میں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں پابندیوں اور گرفتاریوں کا ذکر موجود ہے۔ اگر انسانی حقوق کا مؤقف یکطرفہ دکھائی دے تو اس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
معروف صحافی حامد میر نے بھی اس جانب اشارہ کیا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر ایسے عناصر موجود ہو سکتے ہیں جو سوشل میڈیا پر ایسا بیانیہ چلاتے ہیں جو جماعتی پالیسی سے مختلف ہوتا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے بعض مواقع پر سوشل میڈیا مؤقف سے لاتعلقی کا اظہار اسی پیچیدگی کی علامت ہے۔ ڈیجیٹل دور میں بیانیہ کنٹرول کرنا آسان نہیں رہا۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک عوامی تحریک اپنی اصل بنیادوں پر قائم رہ سکتی ہے یا وہ نظریاتی کشمکش کا ایندھن بن جاتی ہے؟ آزاد کشمیر کی سیاست کو جذبات سے زیادہ فہم کی ضرورت ہے۔ عوامی مسائل کا حل ریاستی تصادم میں نہیں، مؤثر مکالمے اور آئینی جدوجہد میں ہے۔
اگر عوامی ایکشن کمیٹی اپنے ابتدائی خدوخال کی طرف لوٹ آئے، عوامی مسائل کو مرکزی رکھے اور نظریاتی محاذ آرائی سے فاصلہ اختیار کرے تو وہ نہ صرف زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے بلکہ نوجوان نسل کو بھی مثبت سمت دے سکتی ہے۔ بصورت دیگر، خدشہ یہی ہے کہ ایک خالص عوامی تحریک تاریخ کی سیاسی کشمکش میں گم ہو جائے گی