لیوی ختم نہیں کر سکتےتو ہم دھرنا نہیں ختم کر سکتے: امیر جماعت اسلامی

مہنگائی اورپیٹرولیم مصنوعات کیخلاف جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہو گیا، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے باہر چلے جائیں تاکہ انہیں بہتر روز گار مل سکے، خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، حکومت نےبچیوں سے ان کابنیادی حق ہی چھین لیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں پورا حصہ نہیں ملتا، مریم نواز نے خواتین کو ٹرمینیٹ کیا،پھرانہیں دھمکایا بھی کہ ہمارے خلاف نہیں بولنا، اسکول آپ نے بیچ دیے ہیں،وہ ہمارے ٹیکسوں سے بنے تھے، ہمارے حق پر ڈاکہ مار کر اپنی عیاشیاں چل رہی ہیں، خطے میں کوئی اتنی تیزی سے قیمتیں نہیں بڑھاتا جیسے پاکستان بڑھاتا ہے، لیوی ختم نہیں کر سکتےتو ہم دھرنا نہیں ختم کر سکتے، ہم جلدمہم چلانے لگے ہیں، لانگ مارچ کا بھی آغاز کرنے جا رہے ہیں، کوالٹی ایجوکیشن ہمارا بھی حق ہے،اسکے لیے ہم دھرنے دیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم و علاج کی سہولت نہ دو،روزگارنہ دو،بس پیرا فورس آئے اور اٹھا کر سب لیجائے، جماعت اسلامی عوام کیلئے میدان میں نکلی ہے، یہ تو شروعات ہے،جدوجہد کا آغاز ہے،یہ دھرنا طویل ہوتا جائیگا، اب حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا، وہ کہتے ہیں یہ کیسےکریں،آپ اپنا جہاز اور بڑی گاڑیاں بیچ دو، بنوقابل پروگرام میں 17 لاکھ طالب علم کام کررہےہیں، ہم حق کیلئے لڑ رہے ہیں،ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپکا اور پوری قوم کا مقدمہ ہے، مریم نواز،انکے والد اور چاچا جان سمیت سارا خاندان غور سے دیکھ  لیں، انہوں نے اتنے سالوں میں کیا سلوک کیا جو خواتین  باہر نکلی ہیں، آج دھرنے کا ساتواں روز ہے، حکومت اپنی ٹھٹائی چھوڑ دے، عورتیں خوشی خوشی نوکریاں نہیں کرتیں، خواتین خود میدان میں آتی ہیں مگریہ نظام آنے کی سہولیات فراہم نہیں کرتا۔

امیر جماعت اسلامی کا کہناتھا کہ یہ صوبہ پنجاب جسکی وزیراعلی خود خاتون ہیں،یہاں خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں، ہزار 600 سے زائد خواتین کیساتھ زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے، بہت سے کیس ایسے ہیں جو سامنے ہی نہیں آتے، بچیوں کے اسکول پرائیویٹ کر دیے ہیں، پوری دنیا کے سامنے یہ تماشہ کرتےہیں کہ ہم بہت آزادخیال ہیں، مگر یہی حکومت سب سے زیادہ خواتین کے حقوق پامال کر رہی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے