وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایک ہی معاملے پر سول اور کریمنل کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔ سول اور فوجداری کارروائی میں متضاد فیصلوں سے انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سابق ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بنوں کے کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے اہم فیصلہ جاری کردیا، قرار دیا کہ ایک ہی معاملے پر سول اور کریمنل کارروائی ایک ساتھ نہیں چل سکتی، سول اور فوجداری کارروائی میں متضاد فیصلوں سے انصاف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
فیصلے کے مطابق ملکیتی تنازع سول عدالت میں زیرسماعت ہو تو فوجداری عدالت کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے، متنازع دستاویزات کی اصلیت کا فیصلہ سول عدالت کرے گی۔ متنازع سرٹیفکیٹس کی تصدیق سے پہلے درخواستگزاروں کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ سول عدالت کے فیصلے کے بعد ہی درخواستگزاروں کیخلاف فوجداری یا انتظامی کارروائی شروع کی جا سکے گی، سول مقدمہ،فوجداری مقدمہ ایک ہی معاملے سے گہرا تعلق رکھتے ہوں تو فوجداری کارروائی روکنے کی گنجائش ہے۔
فیصلے کے مطابق بدنیتی سے دائر سول مقدمے کو فوجداری کارروائی روکنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکے گا، فوجداری کارروائی روکنے کا فیصلہ متعلقہ حالات اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے، متنازع دستاویزات کی قانونی حیثیت کا فیصلہ سول عدالت کے اختیار میں ہے۔
