شام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور کے کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ شامی حکام نے مئی میں خفیہ کیمیائی پروگرام کی باقیات دریافت کی تھیں۔ ان باقیات میں خام مال اور گولہ بارود بھی شامل تھا۔ یہ مواد مبینہ طور پر کیمیائی حملوں میں استعمال ہوتا رہا تھا۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیدار ایزومی ناکامتسو نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 کے بعد پہلی بار شام میں کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ تصدیق کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم (OPCW) نے کی ہے۔ ناکامتسو کے مطابق شام میں مزید کیمیائی تنصیبات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں کیمیائی ہتھیار بنانے کی ایک اضافی سہولت شامل ہے۔ اعصابی ایجنٹ بنانے میں استعمال ہونے والا ایک کیمیکل بھی ملا ہے۔ حکام نے خالی کیمیائی ہتھیاروں کا بھی سراغ لگایا ہے۔ شام نے دو ذخیرہ گاہوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔
گزشتہ ماہ OPCW نے شام میں ایک خصوصی ٹیم بھیجی تھی۔ ٹیم نے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سامان کا جائزہ لیا۔ اس کارروائی کے دوران 42 فضائی بم تباہ کیے گئے۔ OPCW نے ان بموں کی تباہی کو ناقابل واپسی قرار دیا۔ یہ بم کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے۔
