علیمہ خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کےلیے دائر درخواست خارج

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کےلیے دائر درخواست خارج کردی جبکہ لاہورہائیکورٹ میں نظر بندی کے خلاف عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے۔

انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں علیمہ خانم کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنےکی دائر درخواست پرپراسیکیوشن کا جواب جمع کرادیا۔  کہا کسی بھی ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا ہائیکورٹ کا دائرہ اختیارہے۔

پراسیکیوٹرمحمد یوسف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کسی ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرسکتی، ایم پی او کے تحت گرفتار ملزم کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا صرف ہائیکورٹ کا اختیارہے۔

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے علیمہ خان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کےلیے دائر درخواست خارج کردی جبکہ علیمہ مقدمے کا فیصلہ 25 ستمبر کو سنایا جائے گا۔

دوسری جانب لاہورہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خانم کی نظر بندی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خانم کے بیٹے نے شاہ ریز کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر مزید دلائل طلب کر لیے۔

درخواست گزار کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ نو مئی میں ملوث تھے رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ  شائد یہ دوبارہ سڑک بلاک کریں گے وکیل نے بتایا کہ 9 مئی کے مقدمے کی تفتیش میں علیمہ خانم کو بے گناہ قرار دیاگیا جب علیمہ خانم بے گناہ قرار دی جا چکیں تو پھر 9 مئی کو بنیاد بنا کر کیسے نظری بندی کی گئی۔

دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ کیا علیمہ خان کی تمام مقدمات میں ضمانت منظور ہوچکی ہے، وکیل نے بتایا کہ دو سے تین مقدمے رہتے ہیں جن میں ضمانت باقی  ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میرا سوال یہ ہے کہ متعلقہ فورم  سے رجوع کیے بغیر درخواست کیسے دائر ہوئی، ہائیکورٹ کے فل بینچ کا ارڈر ہے کہ پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے گا۔ وکیل نےاستدعا کی کہ اس کیس کو کل کےلیے رکھ  دیں، عدالت نے علیمہ خانم کی نظر بندی کے خلاف درخواست پرکارروائی 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے