امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ہے۔انہوں نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پہلے سے زیادہ طاقتور ہو چکا ہے۔انہوں نے امریکی معیشت، امیگریشن پالیسی اور خارجہ پالیسی پر بھی بات کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے۔ان کے مطابق امریکا میں استحکام بھی بڑھا ہے۔ انہوں نے اس کا کریڈٹ اپنی حکومت کی پالیسیوں کو دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ملک کے مفاد میں کئی مسائل حل کیے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنی امیگریشن پالیسی کا بھی دفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا میں اب صرف وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جسے داخلے کی اجازت ہو۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی سے امریکا میں جرائم میں کمی آئی ہے۔یہ بیان ان کی جانب سے اپنی انتظامیہ کی سرحدی پالیسی کے دفاع کے طور پر سامنے آیا۔
ٹرمپ نے ایران کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کیا۔انہوں نے ایران کو خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ایران نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکا کو ایران کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ کرنا ہوگا۔رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں ایران کے خلاف جنگ کو جوہری خطرے کی روک تھام سے جوڑا۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کیوبا کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے مغربی نصف کرۂ ارض میں امریکی مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکا غیر معمولی فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے۔انہوں نے کیوبا کی حکومت پر امریکا میں بعض سیاسی گروہوں سے روابط رکھنے کا الزام بھی عائد کیا۔
