شمالی کوریا کا مبینہ ہائپرسونک میزائل تجربہ، کم جونگ اُن کا انتباہ

شمالی کوریا نے نئے ہتھیار کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا ہے۔ملکی میڈیا کے مطابق کم جونگ اُن نے اس تجربے کا مشاہدہ کیا۔ ان کی بیٹی بھی ان کے ہمراہ موجود تھیں۔امریکی اور جنوبی کوریائی ماہرین کے مطابق یہ ہائپرسونک میزائل کا تجربہ ہوسکتا ہے۔ تاہم، شمالی کوریا نے ہتھیار کی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی۔

جنوبی کوریا اور جاپان کے مطابق شمالی کوریا نے اتوار کو دو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل فائر کیے۔پہلا میزائل تقریباً 440 سے 450 کلومیٹر تک گیا۔ دوسرا میزائل تقریباً 590 سے 600 کلومیٹر تک پہنچا۔دونوں میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے فائر کیے گئے۔ جاپان کے مطابق میزائل اس کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر گرے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بعد میں تجربے کی تصدیق کی۔رپورٹ میں ہتھیار کو ’’نئے قسم کا ہتھیار‘‘ قرار دیا گیا۔ تاہم، اس کی مکمل تکنیکی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔سرکاری تصاویر میں کم جونگ اُن اور ان کی بیٹی کو میزائل کی پرواز سے متعلق معلومات دیکھتے ہوئے دکھایا گیا۔تصاویر میں Hwasongpho-11Ma-1 نامی میزائل کا ذکر بھی دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین اسے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل سے لیس میزائل کا ممکنہ ورژن قرار دے رہے ہیں۔

کم جونگ اُن نے نئے ہتھیار کی ٹیکنالوجی کو انتہائی جدید قرار دیا۔ان کے مطابق یہ تجربہ شمالی کوریا کی جنگی تیاری کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کی مستقبل کی ترقی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔کم جونگ اُن نے کہا کہ دشمن اس پیش رفت کے معنی خود سمجھ جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہتھیار دشمن کے لیے ’’ناقابل علاج دردِ سر‘‘ بنے گا۔ ان کے مطابق اس سے دشمن کو ایک سخت اور ناگزیر ضرب کا سامنا ہوگا۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے