باب المندب پر امریکی مداخلت کے خلاف حوثیوں کا انتباہ، امریکی مفادات کو ٹارگٹ کریں گے

یمن کے حوثیوں نے امریکا کو فوجی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔حوثیوں نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت کی صورت میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے باب المندب پر امریکی کنٹرول کی کوشش کو بھی خطرناک قدم قرار دیا ہے۔

حوثی فوجی مشیر عابد محمد الثور نے اے ایف پی سے گفتگو کی۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی مداخلت حوثیوں کے لیے ’’سرخ لکیر‘‘ ہوگی۔ان کے مطابق امریکی بحری بیڑے کی یمن میں آمد بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔انہوں نے باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کی کسی کوشش پر بھی خبردار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں حوثی امریکا کے خلاف لڑیں گے۔

حوثی مشیر نے امریکی فضائی کارروائی کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حمایت میں امریکی فضائی مدد بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ان کے مطابق ایسی کارروائی کی صورت میں خطے میں امریکی مفادات اہداف بن سکتے ہیں۔انہوں نے امریکی تنصیبات کو بھی ممکنہ اہداف میں شامل کیا۔تاہم، حالیہ دنوں میں ایک دوسرے حوثی رہنما نے اے پی کو بتایا تھا کہ گروپ نے امریکی انتظامیہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف امریکی مدد طلب کی ہے۔رائٹرز کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوجی مدد کی درخواست کی تھی۔امریکا نے اس وقت براہ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا تھا۔واشنگٹن نے انٹیلی جنس اور ہدف بندی کے شعبوں میں مدد کی پیشکش کی تھی۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے