چینی صدر شی جن پنگ امریکا پہنچ گئے، ٹرمپ کا اینڈریوز بیس پر غیر معمولی استقبال

چینی صدر شی جن پنگ سرکاری دورے پر امریکا پہنچ گئے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا غیر معمولی استقبال کیا۔ٹرمپ اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ جوائنٹ بیس اینڈریوز پہنچے۔انہوں نے شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا خیرمقدم کیا۔

شی جن پنگ کے استقبال کے لیے فوجی انتظامات کیے گئے تھے۔فوجی بینڈ نے تقریب میں خصوصی دھنیں پیش کیں۔توپوں سے سلامی بھی دی گئی۔ایک بی ون بمبار طیارے نے بھی پرواز کی۔دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور تصاویر بنوائیں۔

یہ استقبال امریکی صدر کے لیے غیر معمولی پروٹوکول تھا۔روایتی طور پر غیر ملکی رہنماؤں کا استقبال وائٹ ہاؤس میں ہوتا ہے۔تازہ رپورٹس کے مطابق 2015 میں پوپ فرانسس کے بعد یہ پہلا ایسا استقبال تھا۔اس سے قبل 1962 میں صدر جان ایف کینیڈی نے برطانوی وزیراعظم ہیرالڈ میکملن کا اینڈریوز بیس پر استقبال کیا تھا۔

شی جن پنگ کا دورہ تین روز پر مشتمل ہے۔دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم امور پر بات چیت متوقع ہے۔ان میں تجارت، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی شامل ہیں۔تائیوان اور نایاب معدنیات بھی اہم موضوعات ہیں۔ایران سے متعلق صورتحال پر بھی گفتگو متوقع ہے۔

امریکا اور چین نے تجارتی جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اس پیش رفت کی تصدیق کی۔تجارتی جنگ بندی اب 10 جنوری تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔دونوں ممالک مزید تجارتی مذاکرات بھی جاری رکھیں گے۔

شی جن پنگ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں باضابطہ تقریب میں شریک ہوں گے۔اس کے بعد ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوگی۔دونوں رہنما بند کمرہ مذاکرات بھی کریں گے۔چینی صدر اور ان کی اہلیہ سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے۔شی جن پنگ کا دورہ جمعہ کو مکمل ہونے کی توقع ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے