نیتن یاہو کا اقوام متحدہ میں خطاب، درجنوں وفود کا واک آؤٹ

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران درجنوں ممالک کے وفود نے ہال سے واک آؤٹ کیا۔نیتن یاہو جب خطاب کے لیے روسٹرم پر پہنچے تو کئی مندوبین ہال سے باہر چلے گئے۔ اس کے بعد جنرل اسمبلی کا ہال بڑی حد تک خالی نظر آیا۔ نیتن یاہو نے واک آؤٹ کرنے والے مندوبین پر تنقید کی۔ انہوں نے باقی مندوبین کو بھی ہال چھوڑنے کا کہا۔

ایرانی وفد بھی نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہال میں موجود نہیں تھا۔ایرانی وفد کی نشست پر سابق ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصویر رکھی گئی تھی۔ اس اقدام کو نیتن یاہو کی تقریر کے خلاف علامتی ردعمل کے طور پر رپورٹ کیا گیا۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں ایران پر بھی بات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کا خاتمہ زیادہ دور نہیں۔انہوں نے ایران میں انٹرنیٹ تک رسائی کے حوالے سے اسٹارلنک ڈیوائس بھی دکھائی۔ نیتن یاہو نے اسے ایرانی وفد تک پہنچانے کی بات کی۔انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کا ذکر بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے 2024 کے پیجر حملوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک پیجر دکھایا۔

نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے اردوان کو سخت الفاظ میں مخاطب کیا اور حماس سے متعلق ان کی پالیسی پر اعتراض کیا۔انہوں نے قطر پر بھی تنقید کی۔ نیویارک کے میئر زہران ممدانی بھی ان کی تقریر کا موضوع بنے۔نیتن یاہو نے ممدانی کے بارے میں بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔

تقریب کے دوران اقوام متحدہ میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈانون نے ایرانی وفد کے نمائندے کو اسٹارلنک ڈیوائس دینے کی کوشش کی۔رپورٹس کے مطابق ایرانی نمائندے نے اسے قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں ڈیوائس ایرانی وفد تک پہنچانے کی اسرائیلی کوشش بھی سامنے آئی۔ نیتن یاہو کی تقریر ایسے وقت میں ہوئی جب غزہ جنگ اور ایران سے متعلق اسرائیلی پالیسی پر اقوام متحدہ میں شدید اختلافات موجود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے