ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی زیرِ آب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ڈرون جاسوسی کی سرگرمیوں میں استعمال ہورہا تھا۔پاسداران انقلاب کی بحریہ نے بتایا کہ ڈرون کو انٹیلی جنس اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیتوں سے کی گئی ایک مربوط کارروائی کے دوران پکڑا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق قبضے میں لیا گیا ڈرون Remus 600 ہے۔ یہ ایک خودکار زیرِ آب گاڑی ہے۔پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ڈرون آبنائے ہرمز میں جاسوسی کے لیے سرگرم تھا۔ ایرانی ماہرین نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا ہے تاکہ اس کے اندر موجود ڈیٹا کا جائزہ لیا جاسکے۔
ایرانی بیان میں اس کارروائی کو ایک پیچیدہ آپریشن قرار دیا گیا۔ اس میں انٹیلی جنس نگرانی اور الیکٹرانک جنگ کی صلاحیتیں استعمال کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
