امریکی فوج نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا۔سینٹ کام نے کہا ہے کہ ایران کے پاس مؤثر بحریہ موجود نہیں۔امریکی کمانڈ کے مطابق حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں سے ایرانی بحری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سینٹ کام نے ایران کے کنٹرول کے دعوے کی تردید میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کا حوالہ دیا۔امریکی کمانڈ کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں ہزاروں تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی اور اتحادی افواج نے 2 ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں مدد کی۔اس دوران ایک ارب بیرل سے زائد خام تیل بھی آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق آبنائے ہرمز کی مرکزی بحری گزرگاہوں سے بارودی سرنگیں صاف کر دی گئی ہیں۔سینٹ کام نے کہا کہ امریکی اور اتحادی افواج تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکی کمانڈ کے ایک حالیہ بیان کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمی جاری رہی ہے۔ تاہم آزاد شپنگ ڈیٹا میں ٹریفک کی سطح میں نمایاں اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران اور امریکا کے مؤقف میں واضح فرق ہے۔امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایران اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کرتا۔دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی عسکری پوزیشن برقرار رکھی ہے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ عرصے میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول سے کافی کم رہی ہے۔
