ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی عوام کے نام 25 صفحات پر مشتمل کھلا خط جاری کردیا۔ خط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کی گئی ہے۔ اسرائیل کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے تہران میں پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان پُرامن بقائے باہمی ممکن ہے۔ اس کے لیے واشنگٹن کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنا ہوگی۔
حسین محبی نے امریکی عوام سے بیرونِ ملک جنگوں کی مخالفت کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے اسرائیل کی حمایت سے متعلق حکومتی پالیسیوں کی مخالفت کا بھی مطالبہ کیا۔
ایرانی ترجمان نے ٹرمپ حکومت پر ایران کے خلاف فوجی اور معاشی دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں کو ایران کے خلاف جنگ اور پابندیوں سے جوڑا۔
حسین محبی نے صدر ٹرمپ کو ناقابلِ اعتماد قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی عوام کو خطے کی صورتِ حال سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کی جارہیں۔ان کے مطابق حقائق سامنے آنے کے بعد امریکی عوام اپنی رائے پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔
حسین محبی نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی دعوے کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود تعداد میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل گئی ہے۔
انہوں نے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز پر ایران کے مؤقف کو واضح کیا تھا۔ ایرانی حکام اسے خطے میں اہم تزویراتی معاملہ قرار دیتے رہے ہیں۔
