بحیرہ بالٹک میں کشیدگی، روس کی نیٹو کو جوہری وارننگ

Russian President to pay two-day official visit to China from May 19

روس نے نیٹو کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی وارننگ دے دی ہے۔ ماسکو نے یہ انتباہ کیلینن گراڈ کے ممکنہ محاصرے یا رابطہ منقطع کرنے کی صورت میں دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق روس نے نیٹو کو ایک غیر رسمی سفارتی دستاویز بھیجی ہے۔ اسے سفارتی زبان میں ’’نان پیپر‘‘ کہا جاتا ہے۔

روسی دستاویز میں نیٹو پر خطرناک طرز عمل اختیار کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ماسکو کے مطابق اس سے براہ راست مسلح تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر نیٹو ممالک کیلینن گراڈ کو روس کے باقی حصے سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ماسکو اپنے تمام فوجی وسائل استعمال کرسکتا ہے۔روسی انتباہ میں جوہری ہتھیار بھی ان وسائل میں شامل کیے گئے ہیں۔

کیلینن گراڈ روس کا ایک الگ علاقہ ہے۔ یہ روس کے مرکزی حصے سے جغرافیائی طور پر جدا ہے۔یہ علاقہ پولینڈ اور لیتھوانیا کے درمیان بحیرہ بالٹک کے ساحل پر واقع ہے۔ کیلینن گراڈ کو روس کا اہم عسکری مرکز بھی سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ میں روسی سفارت خانوں نے بھی حالیہ دنوں میں بیانات جاری کیے ہیں۔ان بیانات میں نیٹو پر فوجی مشقوں اور کیلینن گراڈ سے متعلق منصوبہ بندی کے ذریعے کشیدگی بڑھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔

ماسکو نے نیٹو ممالک پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزامات مسترد کیے ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ کیلینن گراڈ کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے