تیونس کے صدر قیس سعید نے سائبر کرائم سے متعلق قانون میں سزاؤں میں نرمی کردی ہے۔ یہ فیصلہ انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی تنظیموں کی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئی ترمیم کے تحت بعض جرائم میں پہلی مرتبہ ملوث افراد کو قید کے بجائے مالی جرمانے کا سامنا ہوگا۔ اس ترمیم سے پہلے بعض مقدمات میں 10 سال تک قید کی سزا مقرر تھی۔
نئی ترمیم کے مطابق پہلی بار جرم کرنے والوں کے لیے بعض صورتوں میں 10 ہزار سے 20 ہزار تیونسی دینار تک جرمانہ ہوگا۔یہ رقم تقریباً 3,370 سے 6,740 امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ بار بار جرم کرنے والوں کے لیے چھ ماہ تک قید اور 50 ہزار دینار جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
پرانے قانون کے تحت سرکاری عہدیدار یا اس کے مساوی شخصیت کو نشانہ بنانے والے جرائم میں سخت سزائیں مقرر تھیں۔ایسے مقدمات میں 10 سال تک قید اور ایک لاکھ تیونسی دینار تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا تھا۔ نئی ترمیم کے بعد بعض پہلی مرتبہ جرائم میں قید کی جگہ مالی سزا دی جائے گی۔ یہ سائبر کرائم فرمان 2022 میں نافذ ہوا تھا۔ تیونس اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق اور پریس کی آزادی کی تنظیموں نے اس پر تنقید کی تھی۔
تنظیموں کا کہنا تھا کہ قانون کو صحافیوں، کارکنوں اور صدر قیس سعید کے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس قانون کے تحت کئی صحافیوں اور کارکنوں کو جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔
حالیہ ترمیم کو تیونس کے سائبر کرائم قانون میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ نئی شقیں بعض پہلی مرتبہ جرائم میں قید کے بجائے مالی سزا کا راستہ اختیار کرتی ہیں۔
تاہم بار بار جرم کرنے والوں کے لیے قید کی سزا برقرار رکھی گئی ہے۔ حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے درمیان قانون کے دائرہ کار پر اختلاف بدستور موجود ہے۔
