مدینہ پاور اسٹیشن پر حملے کے بعد یمن میں حوثی اہداف پر فضائی کارروائیاں

مدینہ منورہ میں بجلی کی تنصیب پر ڈرون حملے کے بعد یمن میں حوثی اہداف کے خلاف فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ یمنی فوج نے صنعا، صعدہ اور تعز میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی قیادت میں یمن میں اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں نے مدینہ میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔ان کے مطابق حملہ 29 ستمبر کی صبح کیا گیا۔ تحقیقات میں ڈرون کے ملبے کا بھی جائزہ لیا گیا۔ترجمان نے حوثی ملیشیا کو حملے کا ذمہ دار قرار دیا۔ حوثی ذرائع نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔

ترکی المالکی کے مطابق حملے سے ایک ٹرانسفارمر سروس سے باہر ہوگیا۔ تاہم مجموعی بجلی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔سعودی حکام کے مطابق یہ تنصیب مسجد نبوی سمیت مدینہ کے دیگر شہری مراکز کو بجلی فراہم کرتی ہے۔ سعودی اتحاد نے حملے کو شہری تنصیب پر حملہ قرار دیا ہے۔

یمنی فوج نے کہا کہ اس نے حوثیوں کے خلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ صنعا میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔یمنی فوج کے مطابق صعدہ میں 11 اہداف پر حملے کیے گئے۔ تعز میں بھی حوثیوں کے ایک فوجی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت نے تعز میں 20 فضائی حملوں کی بھی اطلاع دی ہے۔ یہ حملے حوثی اہلکاروں، نقل و حرکت، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کے خلاف کیے گئے۔

سعودی اتحادی افواج نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت بھیجا گیا ایک ڈرون مار گرایا گیا۔اتحادی ترجمان نے اس معاملے کو حرمین شریفین کے تحفظ سے جوڑا تھا۔ سعودی حکام نے اسے ایک حساس معاملہ قرار دیا۔2017 میں بھی سعودی فضائی دفاع نے مکہ کی سمت داغا گیا بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

مدینہ کی بجلی تنصیب پر حملے کے بعد متعدد عرب ممالک نے مذمت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت نے الگ الگ بیانات جاری کیے۔اردن نے بھی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ خلیج تعاون کونسل نے سعودی عرب کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کی حمایت کی۔

حوثی گروپ صنعا اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کے بڑے حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی تھی۔

اس کے بعد حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے جنگ بندی کے بعد سرحد پار حملوں میں نمایاں کمی آئی تھی۔حالیہ کارروائیوں کے بعد یمن میں دوبارہ فوجی کشیدگی بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے