امریکی قانون سازوں نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف بل پیش کردیا

امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف کارروائی کا اختیار دے دیا

امریکی ایوان نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف نیا قانون پیش کردیا ہے۔’اسٹاپ دی سیٹلمنٹس ایکٹ‘ کے نام سے پیش کیے گئے بل میں مغربی کنارے اور غزہ میں نئی بستیوں کی تعمیر اور موجودہ بستیوں کی توسیع سے متعلق افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ قانون کے تحت بستیوں کی تعمیر یا توسیع میں کردار ادا کرنے والے غیر ملکی افراد اور اداروں کے خلاف امریکی پابندیاں عائد کرنے کی تجویز ہے۔بل میں اسرائیلی بستیوں اور چوکیوں میں تیار ہونے والی اشیا کی امریکا میں درآمد روکنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ قانون میں بستیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دیگر متعلقہ سرگرمیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بل رکن کانگریس جواکین کاسترو، میڈلین ڈین، ڈان بیئر، گریگ کاسار، سارا جیکبز اور ویرونیکا اسکوبار نے متعارف کرایا۔روزا ڈی لاؤرو سمیت متعدد دیگر ڈیموکریٹ ارکان نے بل کی حمایت کی ہے۔ کانگریس کی رکن سارا جیکبز کے دفتر کے مطابق روزا ڈی لاؤرو بھی شریک حمایت کنندگان میں شامل ہیں۔

بل پیش کرنے والے ارکان نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور توسیع کو روکنا ہے۔جواکین کاسترو نے مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی حل کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا۔ ان کے مطابق کانگریس پابندیوں سمیت مختلف قانونی ذرائع استعمال کر سکتی ہے۔

سارا جیکبز نے کہا کہ بل کے تحت نئی بستیوں یا موجودہ بستیوں کی توسیع میں کردار ادا کرنے والے افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حقوق اور خطے میں امن کے امکانات کا بھی ذکر کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے