بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے معاملے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے 2 اکتوبر سے ملک گیر احتجاجی مہم شروع کردی ہے۔
ممبئی کے شیواجی پارک میں ہونے والے احتجاج میں بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔ معروف اداکار شبانہ اعظمی اور نصیرالدین شاہ بھی مظاہرے میں موجود تھے۔ گلوکار و موسیقار وشال دادلانی نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے بھارتی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی، یعنی Special Intensive Revision (SIR) کے عمل پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔
CJP کے رہنما ابھجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ احتجاج کو دیگر بھارتی شہروں تک پھیلایا جائے گا۔ پارٹی نے گیانیش کمار کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں مزید احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا دعویٰ ہے کہ SIR کے دوران 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے گئے ہیں۔
یہ دعویٰ CJP اور بعض اپوزیشن حلقوں کی جانب سے کیا گیا ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے حوالے سے اپنا مؤقف پیش کیا ہے اور اہل ووٹرز کے اندراج کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی ہے۔
شیواجی پارک میں ہونے والے احتجاج میں شبانہ اعظمی، نصیرالدین شاہ اور وشال دادلانی سمیت فلم اور موسیقی سے وابستہ شخصیات شریک ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے باوجود بڑی تعداد میں افراد شیواجی پارک پہنچے۔ احتجاج میں انتخابی فہرستوں اور ووٹ کے حق سے متعلق مطالبات اٹھائے گئے۔
