اسرائیلی انتہاپسند وزیر بن گویر کا مقبوضہ مغربی کنارے پر ملکیت کا دعویٰ

اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے۔ انہوں نے مغربی کنارے کے مختلف انتظامی علاقوں میں فرق کو بھی مسترد کیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق بن گویر نے یہ بیان اسرائیلی چینل 14 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ وزیر دفاع بنے تو فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کے لیے کام کریں گے۔

بن گویر نے وزیر دفاع بننے کی صورت میں مغربی کنارے اور غزہ سے فلسطینیوں کی منتقلی کے لیے اقدامات کرنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بڑی تعداد میں فلسطینی وہاں سے منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔بن گویر نے کہا کہ وہ اس معاملے کو مسلسل اپنی توجہ کا مرکز بنائیں گے۔ انہوں نے ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے کی بات بھی کی۔

1995 کے اوسلو دوم معاہدے کے تحت مغربی کنارے کو ایریا اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایریا اے میں فلسطینی انتظامی و سکیورٹی کنٹرول ہے۔ ایریا بی میں فلسطینی شہری انتظامیہ اور اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول کا انتظام ہے۔ ایریا سی تقریباً 60 فیصد علاقے پر مشتمل ہے اور اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

بن گویر نے ان علاقوں کے درمیان فرق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پورے علاقے پر اسرائیلی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو کنیسٹ انتخابات ہونے والے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے