بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے 2026 کی رپورٹ میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عیسائیوں اور مسلمانوں سمیت مذہبی اقلیتوں کو حملوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ کمیشن نے بھارت کو Country of Particular Concern (CPC) قرار دینے کی سفارش بھی کی ہے۔
USCIRF کے مطابق 2026 میں بھارت میں مذہبی آزادی کی صورتحال بدستور تشویش کا باعث ہے۔ کمیشن نے عیسائیوں سمیت مختلف مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور ہراسانی کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض بھارتی ریاستوں نے مذہب کی تبدیلی سے متعلق قوانین کو مزید سخت کیا ہے۔ ان قوانین میں سزاؤں اور پابندیوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
USCIRF نے فروری 2026 میں بھی بھارت میں عیسائیوں کے خلاف حملوں اور ہراسانی میں اضافے پر تشویش ظاہر کی تھی۔ کمیشن کے مطابق بعض واقعات میں عیسائی عبادت گاہوں اور مذہبی سرگرمیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
USCIRF نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں امریکی حکومت سے بھارت کو Country of Particular Concern قرار دینے کی سفارش کی ہے۔
کمیشن کے مطابق یہ سفارش مذہبی آزادی کی مبینہ سنگین اور مسلسل خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ USCIRF نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی قوانین اور ہراسانی کے واقعات کا حوالہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت مذہبی آزادی کے حوالے سے عائد کیے جانے والے بعض الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ تاہم USCIRF نے اپنی تازہ رپورٹس میں مذہبی اقلیتوں کی صورتحال پر تشویش برقرار رکھی ہے۔
