نیویارک: امریکہ نے برطانیہ کے RAF فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اپنے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے ہیں۔ پینٹاگون نے طیاروں کی امریکا واپسی کی تصدیق کردی ہے۔فیئرفورڈ اڈے پر تقریباً ایک درجن B-1 بمبار طیارے تعینات تھے۔ یہ طیارے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں استعمال ہوئے تھے۔
امریکی اقدام ایک سیکیورٹی واقعے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس واقعے کے بعد کئی افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔برطانوی پولیس نے RAF فیئرفورڈ کے قریب افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد سے متعلق الزامات کے تحت تحقیقات کی گئیں۔
پینٹاگون کے مطابق آپریشنل سیکیورٹی کی وجہ سے طیاروں کی نقل و حرکت فوری طور پر ظاہر نہیں کی گئی۔ بعد میں تمام امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کی تصدیق کردی گئی۔
برطانوی حکام نے واقعے میں ایران کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کی ہیں۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے ایران کے ملوث ہونے کے مضبوط اشاروں کا ذکر کیا۔
ایران نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ تہران نے معاملے پر برطانوی سفیر کو بھی طلب کیا۔تحقیقات میں گرفتار افراد کے ممکنہ روابط کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے ابھی تک ایران کے ملوث ہونے کا حتمی ثبوت پیش نہیں کیا۔
RAF فیئرفورڈ کو امریکی فوج نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا۔ اڈے سے B-1 طیاروں نے مختلف فوجی مشنز میں حصہ لیا۔
برطانوی حکومت نے امریکہ کو اڈے کے استعمال کی اجازت دی تھی۔ اس میں ایران کے میزائل ٹھکانوں کے خلاف کارروائیاں بھی شامل تھیں۔یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے تناظر میں کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرفتار افراد سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ افراد بڑے نقصان کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی ممکنہ غیر ملکی کردار کی طرف اشارہ کیا۔ تاہم معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کے باوجود پینٹاگون نے اپنی عالمی فوجی صلاحیت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
