چین نے کہا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ اس کے حل میں کسی بیرونی قوت کو مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکھون نے یہ مؤقف صحافیوں کے سوالات کے جواب میں دیا۔ انہوں نے تائیوان کے معاملے پر چین کے مستقل مؤقف کو واضح کیا۔
گو جیاکھون نے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے پر عمل کرے۔انہوں نے امریکا سے ایک چین کے اصول کی پاسداری کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن کو چین اور امریکا کے درمیان طے پانے والے تین مشترکہ اعلامیوں کی بھی پابندی کرنی چاہیے۔
چینی ترجمان نے امریکا پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے کو محتاط انداز میں دیکھے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں بیرونی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔گو جیاکھون نے تائیوان کو امریکی اسلحے کی فروخت پر بھی چین کا مؤقف دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ چین تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر چین کا موقف واضح اور مستقل ہے۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تائیوان کو امریکا سے دو نئے ایف 16 وی جنگی طیارے موصول ہوئے ہیں۔ مزید طیاروں کی فراہمی بھی طے ہے۔
تائیوان کا معاملہ چین اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات میں شامل ہے۔ بیجنگ تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے۔واشنگٹن کے تائیوان کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم امریکی قانون کے تحت تائیوان کو دفاعی صلاحیت فراہم کی جاتی ہے۔
