۔ امریکا میں F-1 طلبہ کے OPT پروگرام پر 70 ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کی تجویز

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے نئی فیس کی تجویز دی ہے۔ اس تجویز کے تحت OPT پروگرام میں ابتدائی شمولیت پر 70 ہزار ڈالر فیس مقرر کی جا سکتی ہے۔یہ تجویز F-1 ویزا رکھنے والے غیر ملکی طلبہ سے متعلق ہے۔ OPT کے ذریعے طلبہ اپنی تعلیم سے متعلق شعبے میں عارضی طور پر کام کر سکتے ہیں۔

مجوزہ ضابطے کے تحت ابتدائی OPT سفارش پر 70 ہزار ڈالر فیس عائد ہوگی۔ مزید OPT یا اضافی تربیت کی صورت میں 30 ہزار ڈالر فیس تجویز کی گئی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ مجوزہ فیس براہِ راست طالب علم کے نام پر مقرر نہیں کی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ فیس تعلیمی ادارے کو ادا کرنا ہوگی۔تاہم، ادارہ یہ لاگت طالب علم یا آجر سے وصول کر سکتا ہے۔ اس طرح فیس کا مالی بوجھ بالآخر طلبہ یا کمپنیوں تک پہنچ سکتا ہے۔

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق مقصد OPT پروگرام میں نگرانی بڑھانا ہے۔ حکام نے فراڈ اور غلط استعمال کی روک تھام پر زور دیا ہے۔DHS کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امریکی کارکنوں کے مفادات کا تحفظ بھی ہوگا۔ محکمہ F-1 حیثیت سے متعلق قواعد پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہتا ہے۔

OPT پروگرام F-1 ویزا رکھنے والے اہل بین الاقوامی طلبہ کو کام کی اجازت دیتا ہے۔ ملازمت کا تعلق طالب علم کے تعلیمی شعبے سے ہونا ضروری ہے۔اہل طلبہ تعلیم کے دوران بھی OPT حاصل کر سکتے ہیں۔ گریجویشن کے بعد بھی محدود مدت کے لیے کام کی اجازت مل سکتی ہے۔STEM یعنی سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں کے گریجویٹس اضافی 24 ماہ کی توسیع کے اہل ہو سکتے ہیں۔

موجودہ نظام میں OPT سے متعلق بنیادی فیس تقریباً 500 ڈالر کے آس پاس ہے۔ نئی تجویز منظور ہونے کی صورت میں لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔OPT کئی بین الاقوامی طلبہ کے لیے امریکی ملازمت کی جانب اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر STEM گریجویٹس اس پروگرام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ پروگرام H-1B ویزا کے لیے بھی اہم راستہ بن سکتا ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں غیر ملکی ہنرمند کارکنوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے H-1B پروگرام پر بھی نئی فیس اور پابندیوں کی پالیسی اپنائی ہے۔ اس حوالے سے امریکی عدالتوں میں قانونی تنازعات بھی جاری ہیں۔بین الاقوامی طلبہ کے لیے OPT کی نئی فیس بھی قانونی چیلنج کا سامنا کر سکتی ہے۔ امیگریشن ماہرین نے مجوزہ ضابطے کے قانونی مستقبل پر سوالات اٹھائے ہیں۔

DHS نے مجوزہ ضابطے کو عوامی رائے کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عوام کو 30 دن تک اپنی آرا جمع کرانے کا موقع دیا جائے گا۔ضابطے کو حتمی شکل دینے کے بعد اس کے نفاذ سے قبل 60 دن کا وقفہ رکھا جائے گا۔ اس دوران تعلیمی ادارے، طلبہ اور آجر نئی پالیسی کی تیاری کر سکیں گے۔

 

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے